عصر حاضر میں تاویلات

 

سوال۱: عصر حاضر میں جدید تاویلات سے کیا مراد ہے؟

سوال۲: عصر حاضر میں تاویلات کی مختلف صورتیں کیا ہو سکتی ہیں؟

سوال۳: دین ومذہب کی تاویلات و تعبیرات کے محرکات کیا ہو سکتے ہیں؟

 

جواب: جدید تاویلات ایک بے معنی ترکیب ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر زمانے میں نئے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ان کو حل کرنے کے لیے نصوص سے استنباط کیا جاتا ہے۔ اصول استنباط میں بھی بہت سے اختلافات ہیں اور ان کے اطلاق میں بھی اختلاف ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ ہر مکتب فکر کچھ آراء ونتائج میں دوسرے سے مختلف ہے۔

 

 

سوال۴: عصر حاضر میں جدید تاویلات وتعبیرات کے اثرات کیا ہیں۔

جواب:اس سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے ذہن میں کچھ لوگوں کا کام ہے۔ جب تک وہ نام واضح نہ ہو اس کے اثرات بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔

 

 

سوال۵: دین ومذہب کی جدید تاویلات وتعبیرات سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

جواب:اس کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ دین کا ماخذ صرف قرآن وسنت کو مانا جائے اور ان کو پڑھنے اور ان سے استنباط کرنے میں ساری سعی اس بات کی ہو کہ شارع کا منشا کیا ہے۔ باہر سے کوئی نتیجہ یا رائے قائم کرکے اسے قرآن وسنت سے مؤکد کرنے کی کوشش درحقیقت دین سازی ہے ۔ یہ بات کسی صورت میں درست نہیں ہے۔ یہاں میں پھر یہ عرض کروں گا کہ جدید تاویلات و تعبیرات کی ترکیب مبہم ہے۔ دین کے مقصد کو طے کرنے میں اور شریعت کے اصول ومقاصد کے تعین میں قدیم سے اختلافات ہیں۔ ہروہ فہم دین وشریعت جو فہم متن کے مسلمہ اصولوں پر مبنی ہو وہ درست ہے اصل سوال یہ ہے کہ کسی شخص کا کام دین کو اور شارع کے منشا کو سمجھنے کی کوشش ہے یا نہیں۔ صحت کا معیار نہ قدیم ہے اور نہ جدید۔ جو بات اوفق بالقرآن والسنہ ہے وہی حق ہے۔

 

 

پچھلا صفحہ

حسن ترتيب
info@suayharam.org
ماہنامہ سوئے حرم
53      وسيم بلاک، حسن ٹاون، ملتان روڈ، لا
ہور 54780
فون 5427453، 5413851